ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جنگلاتی علاقوں میں سپاری اور دوسرے درختوں پرعجیب قسم کے کیڑوں کاحملہ۔ عوام کے لئے پریشانی کا سبب

جنگلاتی علاقوں میں سپاری اور دوسرے درختوں پرعجیب قسم کے کیڑوں کاحملہ۔ عوام کے لئے پریشانی کا سبب

Thu, 05 Jul 2018 13:04:31    S.O. News Service

سرسی 5؍جولائی (ایس او نیوز) سپاری، کالی مرچ، کیلے اور کافی وغیرہ اگانے والے کسانوں کے لئے کبھی موسم کی مار پڑتی ہے تو کبھی صحیح قیمت نہ ملنے سے پریشانی ہوتی ہے۔ لیکن ان سب سے زیادہ مشکل صورتحال اس وقت ہوتی ہے جب ان کی فصلوں پر نقصان پہنچانے والے کیڑوں کا حملہ ہوتا ہے۔

ایسی ہی کچھ صورتحال سرسی کے قریب جنگلاتی علاقوں میں سپاری کے باغات لگانے والوں کے سامنے ہے۔ یہاں شہد کی مکھیوں کی طرح نظر آنے والے عجیب و غریب کیڑوں کے جھنڈ سپاری کے درختوں پر حملہ آور ہوئے ہیں۔یہ کیڑے کس قسم کے ہیں اور ان سے فصل کو کیا نقصان ہوسکتا ہے اس کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات دستیاب نہیں ہے۔اس کے باوجود اس سے پہلے کبھی نظر نہ آنے والے اس قسم کے کیڑوں کی وجہ سے سپاری کے باغات رکھنے والوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔

سرسی تعلقہ کے پُٹّن منے گرام میں تقریباً ایک ایکڑ زمین پر پھیلے ہوئے سپاری کے باغ میں دوچار دنوں سے عجیب وغریب کیڑوں کے جھنڈ درختوں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔قریب جانے پر یہ کیڑے کاٹتے تو نہیں ہیں لیکن ان سے بہت ہی خراب بدبو نکلتی ہے اور نزدیک جانے والوں کو اطراف سے گھیر لیتے ہیں۔ پھر واپس درختوں پر جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس طرح درخت کے پتوں کو کھاجانے والے اور فصل کو نقصان پہنچانے کا خطرہ لوگوں کو پریشان کیے جارہا ہے۔ سپاری اور دیگر فصلیں اگانے والے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں محکمہ باغبانی سے رابطہ قائم کرنے پر ان کے مشورے کے مطابق دوائیاں چھڑک دی جاتی ہیں تو یہ کیڑے وہاں سے اُڑ کر بھاگ توجاتے ہیں مگر ہلاک نہیں ہوتے۔پھر کچھ وقت کے بعد اسی جگہ آکر بیٹھ جاتے ہیں

سپاری کی فصل اگانے والی روپاہیگڈے کا کہنا ہے کہ ہمارے سپاری کے باغ کے اطراف گھنا جنگل اگایا گیا ہے۔ گرمی کے دنوں میں یہاں سے اس قسم کے کچھ کیڑے نظر آئے تھے، لیکن اب برسات کا موسم شروع ہوتے ہیں یہ کیڑے لاکھوں کی تعدادمیں حملہ آور ہوئے ہیں۔اب یہ قسم کا نقصان پہنچائیں گے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔روپا کا کہنا ہے کہ اس قسم کی عجیب و غریب صورتحال پیدا ہونے کے باوجود ابھی تک کسی بھی آفیسر نے یہاں پہنچ کر حالات کا جائزہ لینے اور مسئلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔وشواناتھ ہیگڈے نامی شخص نے مطالبہ کیا کہ شہد کی مکھیوں کی طرح جھنڈ میں حملہ آور ہونے والے ان کیڑوں کے تعلق سے محکمہ باغبانی کو توجہ دینی چاہیے اور سائنس دانوں کو ان کے بارے میں تحقیق کرکے فصل اگانے والوں کو راحت پہنچانے کا قدام کرنا چاہیے۔

ایسی ہی ایک رپورٹ سداپور سے بھی موصول ہوئی ہے کہ جنگلاتی علاقے ماگنی میں گزشتہ ایک مہینے سے کھٹملوں جیسے عجیب وغریب کیڑوں نے پودوں اور درختوں پر حملہ کررکھا ہے جسے عوام کے اندر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سال 2014میں بھی تقریباً 35ایکڑ جنگلاتی علاقے میں تین مہینوں تک ایسے کیڑوں نے حملہ کیا تھا اور عوام اس سے سخت پریشان ہوگئے تھے۔اب یہ کیڑے جھنڈ کی شکل میں گھروں میں بھی گھس آئے ہیں اور ان کی بدبو سے لوگو ں کے لئے کھانا پینا مشکل ہوگیا ہے۔عوام گھروں میں دھونی دے کر کیڑوں کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔


Share: